دیامر ڈیم پراجیکٹ کی سکیورٹی یقینی بنائیں گے، کور کمانڈر

چیئر مین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے دریائے سندھ پر زیر تعمیر دیامربھاشا ڈیم کا دورہ کیا اورمنصوبے پر جاری پیش رفت کا جائزہ لیا۔کمانڈر 10 کورلیفٹیننٹ جنرل ساحرشمشادمرزا بھی اس دورے میں ان کے ہمراہ تھے۔ جنرل منیجر (لینڈایکوزیشن اینڈ ری سٹیلمنٹ ) واپڈا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) شعیب تقی، جنرل منیجر (دیا مربھاشا ڈیم پراجیکٹ) محمد یوسف راوئو کے علاوہ کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔کمانڈر10 کور نے اپنے خطاب میں کہا کہ دیامربھاشا ڈیم قومی اہمیت کا منصوبہ ہے اور انہیں اس منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر میں پاک فوج کی بھر پور معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج پراجیکٹ ایریا میں محفوظ اور سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے پر عزم ہے تاکہ منصوبے کی تمام سائٹس پر تعمیراتی کام بلا تعطل جاری رہے۔اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے دیامربھاشا ڈیم اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے کی بدولت زراعت کیلئے پانی دستیاب ہوگا، سیلاب سے بچائومیں مددملے گی اور سستی پن بجلی پیدا ہوگی۔ لہٰذا اس منصوبے کی شیڈول کے مطابق 29ـ2028 میں تکمیل کیلئے تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

دیامربھاشاڈیم کے فوائد کا ذکرکرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اس منصوبے کی بدولت ملکی اقتصادیات میں استحکام ا?ئے گا اور غربت میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی لوگوں کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ واپڈااس منصوبے کے تحت پراجیکٹ ایریا کی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر 78 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کررہا ہے۔چیئرمین واپڈا نے کمانڈر10 کور کے ہمراہ پراجیکٹ ایریا میں مختلف سائٹس کا دورہ کیا اور تعمیراتی کام کا مشاہدہ کیا۔قبل ازیں منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں پراجیکٹ انتظامیہ کی جانب سے ایک بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس وقت منصوبے کی 8 مختلف سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے۔ان سائٹس میں سڑکوں کی تعمیر، دریائے سندھ پر مرکزی ڈیم سے زیریں جانب مستقل پل اور 21 میگا واٹ کا تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ڈیم کی تعمیر کیلئے بالائی جانب سے کھدائی، ڈائی ورشن ٹنل، ڈائی ورشن کینال،ڈائی ورشن ان لیٹ اور پاور ان ٹیک کی کھدائی شامل ہے۔مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت صحت، تعلیم، سیاحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے جاری مختلف منصوبوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کے دوران ملازمتوں کے مرحلہ وار 16 ہزار 500 مواقع پیدا ہونگے جن میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس وقت بھی واپڈا ،کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے پاس 3 ہزار 200 مقامی افراد کام کررہے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے پرمجموعی طورپر 8اعشاریہ 1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا۔ 1.23 ملین ایکڑزمین سیراب ہو گی۔4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور نیشنل گرڈ کو ہرسال 18 ارب یونٹ سے زائد کم لاگت پن بجلی مہیا ہوگی۔دیامربھاشا ڈیم کی تکمیل سے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا اور دیگر پن بجلی گھروں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی پن بجلی حاصل ہوگی جبکہ تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی 35سال کا اضافہ ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں