سستے اور فوری انصاف کی فراہمی اولین ترجیح، کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، چیف جسٹس

چیف جسٹس گلگت بلتستان جسٹس علی بیگ نے جسٹس ملک عنایت الرحمن جسٹس جوہر علی جسٹس راجہ شکیل احمد اور رجسٹرار غلام عباس چوپا کے ہمراہ ضلع نگر اور ہنزہ کی ضلعی عدلیہ کا دورہ کیا اس موقع پر نگر میں ججز، وکلاء اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اس پر کوئی سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا انصاف کی فراہمی کے لئے نگر،شگر اور کھرمنگ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کو ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹس کادرجہ دینے کے لئے قانونی لوازمات پورا کرنے کے لئے صوبائی حکومت کو لکھا ہے جلد تینوں اضلاع میں ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج کا درجہ دیا جائیگا اور دسمبر تک ہنزہ نگر سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کی فراہمی میں بار اور بینچ کا یکساں کردار ہے مزید عدل وانصاف کی فراہمی کے لئے ملکر کام کرینگے بار ایسوسی ایشن نگر کی قرارداد کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اور سول کورٹ کو ہرسپوداس میں تعمیر کیاجائے گااورمزید نگر میں بار روم کی تعمیر کے لئے اراضی کی فراہمی سمیت منصوبے کے لئے سیکرٹری قانون اور ڈپٹی کمشنر نگر کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات دیدیئے اور کہا کہ چیف کورٹ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے لئے تمام وسائل بروکار لا رہی ہے حکومت سے ملکر سٹاف کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا. سٹاف کی کمی کا بہانہ عدل وانصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا.
ہنزہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مشتاق محمد نے چیف جسٹس کو زیر سماعت مقدمات کے بارے میں بریفنگ دی اور نگر میں ایڈیشنل ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج نگر امنہ ضمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول کورٹ نگر 2005 اور ایڈیشنل ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ نگر کا قیام 2015 میں قیام عمل میں لایا گیا ہے سٹاف کی کمی کے باوجود سول کورٹ اور ایڈیشنل سیشن کورٹ میں متعدد دیوانی اور فوجداری مقدمات کو نمٹایا گیا ہے ایڈیشنل ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں 43اور سول کورٹ میں 135مقدمات زیر سماعت ہیں اس موقع پر صدر ڈسڑکٹ بار ایسوسی ایشن ہنزہ نگر ایڈووکیٹ محمد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع نگر میں موجودہ قت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ مختلف مقدمات کی سماعت کررہی ہے فل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدم موجودگی کی وجہ سے مختلف جن میں کسٹم ایف آئی اے کے مقدمات جو ضلع نگر سے متعلق ہوں ہنزہ یا گلگت میں چلائے جارہے ہیں جس باعث وکلاء اور سائلین کو مشکلات کا سامنا ہورہا ہے ان ایشوز کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ کو فل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا درجہ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں