گلگت میں ٹیکنالوجی زون قائم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں خصوصی ٹیکنالوجی زون قائم کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر اعظم سے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی (STZA)نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے گلگت میں خصوصی ٹیکنالوجی زون قائم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خالد خورشید کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم عمران خان نے خالد خورشید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکنالوجی زون قائم کر کے عوام کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیروترقی پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے جاری ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، اہم منصوبوں کی تکمیل سے خطہ ترقی کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے اراضی ریکارڈ کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ اونچی عمارتوں کی شکل میں عمودی رہائش حکومت کی ترجیح ہے، یہنہ صرف تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی رہائشی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ ڈیجیٹلائزڈ کیڈاسٹرل میپپنگ کے مطابق شہروں کی زمین کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنائے گی، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہائوسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین ، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل ، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر ، چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)انور علی حیدر اور دیگر متعلقہ سینئر افسران کی شرکت،وزیراعظم کو لاہور میں جاری کیڈاسٹرل میپنگ مشق پر بریفنگ میں آگاہ گیا کہ منصوبہ ٹریک پر ہے اور امسال 15نومبرتک مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ لاہور کے اراضی ریکارڈ کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی تکمیل پر توجہ دیں تاکہ زمین پر قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف ایک عام آدمی کو ریلیف مل سکے،وزیراعظم کو وزارت ہائوسنگ اور ورکس کے تحت مختلف ہائوسنگ منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس 86323ہائوسنگ یونٹس تعمیر کر رہی ہے جن کی مجموعی لاگت 463ارب روپے ہے۔ اس کے مختلف منصوبوں کے تحت ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی سے 2لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، 2314ارب روپے سے زائد مالیت کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اونچی عمارتوں کی شکل میں عمودی رہائش حکومت کی ترجیح ہے۔ یہ نہ صرف تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی رہائشی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ ڈیجیٹلائزڈ کیڈاسٹرل میپپنگ کے مطابق شہروں کی زمین کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں