ادیبہ قتل کیس، ملزمان کی ضمانت منسوخ، کمرہ عدالت سے گرفتار

چیف کورٹ گلگت بلتستان نے جی بی کے حالیہ مشہور مقدمہ ادیبہ قتل کیس کے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرکے دونوں ملزمان کو جیل بھیج دیا، چیف جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے ملزمان کی ضمانت کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہنزہ کی جانب سے قتل کیس کے نامزد ملزمان شمیم شاہ اور فہیم شاہ کو ضمانت پر رہا کیے جانے کیخلاف مقتولہ کے بھائی بخت بیگ کی درخواست پر چیف جسٹس چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے جمعرات کے روز سماعت کی۔مستغیث کی طرف سے محمد کامران ایڈووکیٹ ( سابق صدر ڈسٹرکٹ بار گلگت) اورفرحان علی ایڈووکیٹ( سابق نائب صدر ڈسٹرکٹ بار گلگت)عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے وکلاکے دلائل سننے کے بعد ملزمان شمیم شاہ اور فہیم شاہ کی ضمانت منسوخ کر دی جس پر انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔ دوران سماعت ایس پی ہنزہ سلمان لیاقت اور گلمت تھانہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر ولی اللہ بھی پیش ہوئے۔یاد رہے کہ ضلع ہنزہ کے سب ڈویژن گوجال کے علاقے شمشال سے تعلق رکھنے والی شادی شدہ خاتون ادیبہ کی لاش دریائے شمشال سے برآمد ہوئی تھی۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق 6جون کو مقتولہ کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔اس واقعے کو مقتولہ کے سسرال والوں نے خود کشی قرار دینے کی کوشش کی۔جبکہ مقتولہ کے حقیقی بھائی نے اپنی بہن کے سسرالیوں پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں درخواست دی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ادیبہ کو قتل کرکے لاش دریا میں پھینک دی گئی اور بعد میں خودکشی کا رنگ دیا گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر7جون کو گلمت تھانے میں درج ہوئی۔ادیبہ قتل کیس میں کل پانچ ملزمان نامزد تھے جن میں تین خواتین اور دو مرد شامل تھے،تینوں خواتین کو ناکافی شواہد کی بناء پر دفعہ169 کے تحت پولیس نے رہا کر دیا تھا جبکہ باقی دو ملزمان کو جوڈیشل کیا گیا جن کو بعد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہنزہ نے 9اگست کوضمانت پر رہا کر دیا۔ ملزمان کی رہائی کیخلاف ہنزہ سمیت گلگت بلتستان کے علاوہ ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مظاہرے ہوئے اور دھرنے دیے گئے۔ اور گلگت میں سینکڑوں مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک جی بی اسمبلی کا گھیرائو کیا۔جبکہ سوشل میڈیا پر کئی روز تک جسٹس فار ادیبہ کا ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ملزمان کی ضمانت منسوخی اور دوبارہ جیل بھیج دیے جانے پر مقتولہ ادیبہ کے بھائی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت عالیہ جی بی کے اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا۔عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بخت بیگ نے مقدمے کی بہترین پیروی کرنے پر اپنے دونوں وکلاء محمد کامران ایڈوکیٹ اور فرہان علی ایڈوکیٹ جبکہ بہیمانہ قتل کے اس واقعے کے خلاف گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں صدائے احتجاج بلند کرنے والی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں