بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ ، قراقرم ہائی وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی

گلگت: بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بندش کا شکار قراقرم ہائی وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق حالیہ بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ سے قراقرم ہائی وے 26مقامات پر بلاک ہوئی ، ایف ڈبلیو او نے قراقرم ہائی وے کو ٹریفک کیلئے بحال کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں سے بشام، گوہر آباد، تتہ پانی اور رائی کوٹ سمیت 26 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ، ایف ڈبلیو او کی ٹیموں نے مسلسل 24گھنٹوں کی کوششوں سے شاہراہ قراقرم کوبحال کیا جس کے نتیجے میں شاہراہ قراقرم پر چلاس سے تتہ پانی تک دو طرفہ ٹریفک بحال کردی گئی ، تتہ پانی سے رائیکوٹ تک دو طرفہ روڈ بحال ہوچکا ہے جب کہ تنگ موڑ کے مقام پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں.

علاوہ ازیں سیاحتی، تفریحی اور مہم جوئی کے حوالے سے معروف فرانسیسی ویب سائٹ وکی کیمپرز نے پاکستان کی قراقرم ہائی وے کو دنیا کی 15 خوب صورت ترین شاہراﺅں کی فہرست میں شامل کرلیا ، وکی کیمپرز پہاڑوں، ساحلوں، صحراﺅں سمیت دیگر دلفریب مقامات کیلئے سیاحتی خدمات فراہم کرنے والی دنیا کی معروف ویب سائٹ ہے جو امریکا، یورپ، لاطینی امریکا سمیت دنیا بھر میں مہم جُو افراد کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔ وکی کیمپرز نے اپنے ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ قراقرم دنیا کی دوسری سب سے بلند ترین ہائی وے ہے جو چار ہزار 693 میٹر کی بلندی پر تعمیر کی گئی ہے اور چین کو پاکستان سے ملاتی ہے ، قراقرم پہاڑی سلسلے میں بعض چوٹیوں کی بلندی سات ہزار میٹر سے بھی زیادہ ہے ، اس ہائی وے کے خوبصورت اور دلفریب مناظر پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے مثالی ہیں۔

وکی کیمپرز کے مطابق دنیا کی دیگر خوب صورت سڑکوں میں ناروے کی اٹلانٹک روڈ شامل ہے، یہ 8.3 کلومیٹر لمبی سڑک جتنی خوبصورت ہے، اتنی ہی خطرناک بھی ہے ، گو کہ یہ عمدہ نظارہ پیش کرتی ہے ، اٹلانٹک روڈ کئی چھوٹے جزیروں اور چٹانوں پر تعمیر کی گئی ہے اور متعدد پلوں کو عبور کرتی ہے ، اطالوی اور سوئس سرحد پر واقع کرنل ڈو اسٹیلیو روڈ 2700 میٹر سے زیادہ اونچائی پر تعمیر کی گئی ہے، اس میں 60 کے قریب موڑ مسحور کن نظارے پیش کرتے ہیں ، اسی طرح ڈیڈس گورجس روڈ مراکش کے مشرق میں واقع ہے جو بحرہ مردار کے کنارے 500 میٹر اونچائی پر مختلف گھاٹیوں سے گزرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں