چینی ٹیم کی داسو بس دھماکے سے متعلق ابتدائی تحقیقات مکمل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے راولپنڈی میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کا دورہ کیا اور داسو بس دھماکے میں زخمی ہونے والے چینی کارکنان کی عیادت کی۔ دوسری جانب چینی تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع پر اپنا ابتدائی کام مکمل کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری ہینڈ آؤٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتال کے دورے کے موقع پر پاکستان میں تعینات چینی سفیر نونگ رونگ بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ چینی تحقیقاتی ٹیم جو داسو واقعے کی تحقیقات کے لیے گزشتہ چند روز سے خیبرپختونخوا کے علاقے بالائی کوہستان میں موجود تھی، جائے وقوع پر اپنا ابتدائی کام مکمل کرنے کے بعد اتوار کو اسلام آباد واپس پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ 14 جولائی کو 9 چینی شہری اور 4 مقامی افراد اس وقت ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوگئے تھے جب انہیں 4 ہزار 300 میگا واٹ کے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیر تعمیر سرنگ تک پہنچانے والی بس ایک دھماکے کے بعد گھاٹی میں جاگری۔ ہسپتال کے دورے کے موقع پر وزیر خارجہ نے زیر علاج چینی شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہیں مکمل حمایت اور طبی دیکھ بھال کی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مزید قریبی تعاون کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں