وفاقی فنانس ڈیپارٹمنٹ نے گلگت بلتستان کے گندم کوٹے میں کٹوتی کے فیصلے کو واپس لے لیا

وفاقی فنانس ڈیپارٹمنٹ نے گلگت بلتستان کے گندم کوٹے میں کٹوتی کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔ جولائی کے کوٹے میں کاٹی گئی گندم کی 1333 بوریاں بحال کردی ہیں۔ آٹا ڈیلروں کو مقررہ کوٹہ دے دیا گیا ہے۔ محکمہ خوراک کے سیکریٹری مومن جان نے بتایا کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان بیرسٹر خالد خورشید اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن (ر) محمد آصف کی کوششوں سے گلگت بلتستان کے کوٹے سے کاٹی گئی گندم دوبارہ بحال کر دی گئی ہے اس سلسلے میں محکمہ خوراک کی جانب سے وفاقی فنانس ڈیپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لئے گندم کا سالانہ کوٹہ 15لاکھ سے بڑھا کر 16 لاکھ کر دیا تھا۔ جس کے تحت ماہانہ 13333 گندم کی بوریاں آتی تھیں مگر جولائی کے گندم کوٹے میں صرف 12000 گندم کی بوریاں بھیجی گئی ہیں ایک ماہ میں 1333 بوریاں کم کرنے سے غذائی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ لہذا فوری طور پر گندم کا بقیہ کوٹہ ریلیز کیا جائے۔ جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سبسڈی گندم کی کاٹی گئی بوریاں بحال کر کے ریلیز کی گئی ہیں جس کے بعد علاقے میں میں وقتی طور پر پیدا ہونے والے غذائی بحران کا خطرہ ختم ہوگیا ہے۔ محکمہ خوراک کے سیکریٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت اور چیف سیکریٹری نے گندم بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ خوراک سے تعاون کریں اور گندم و آٹا سمگلروں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف فوری کاروائی کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں