بہترین راہنماکون ؟؟

چونکہ میں ایک فرد ایک معاشرتی کردار کی حیثیت سے ترقی پسند سوچ کو مضبوط کرنے کی جدوجہد میں مگن رہتا ہوں وہی ہر بحیثیت صحافی میرا موضوع سخن مختلف نظریات کے حامل معاشرے، افراد، طبقات میں مکالمے کو فروغ دینا کیونکہ یہ مکالمہ ہی ہے جو مشترک مفادات کے تعین کے لئیے راستہ فراہم کرتا ہے یہ مکالمہ ہی ہے جو سوچ کے نئے زاویوں کو جنم دیتا ہے جہاں مکالمہ میری تحریروں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے وہی پر نسل نو کا تعلق شعور و آگہی کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر کرنے اور ان میں مثبت گمان، خودداری، سیاسی، سماجی تربیت کو اپنا نصب العین سمجھتا ہوں میں خود ایک طالب ہوں سیکھنے سیکھانے کے عمل پر یقین رکھتا ہوں۔

آج کی اس تحریر میں رہبر/لیڈر شپ میں دور حاضر کے تقاضوں کیمطابق کون کون سی خصوصیات ہونی چاہئیے پر بات کروں گا اور ان تحریر کردہ خصوصیات کے تناظر میں اپ نے یہ پرکھنا ہے کہ گلگت بلتستان کی اب تک کی جمہوری ادوار جن میں سب سے پہلے وزیراعلی سید مہدی شاہ صاحب ان کے بعد اس منصب پر فائز ہونے والے حافظ حفیظ الرحمٰن اور اب کے تیسرے منتخب وزیراعلیٰ محمد خالد خورشید میں سے کس شخصیت میں زیادہ خصوصیات پائی جاتی ہیں.

اچھا لیڈر کون ہے

1) کیا وہ اپنے اداروں، انکے اصولوں اور قوانین کی عزت کرتا ہے اور بتدریج کام کرتے ان میں بہتری اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
2) کیا اسکے پاس اپنے کام اور ذمہ داریوں کیلئے بنیادی تعلیم اور تجربہ موجود ہے؟
3) کیا جو وہ کہتا ہے، وہ کرتا ہے، یا اس کیلئے کوشش کرتا ہے؟
4) کیا وہ مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتا ہے؟
5) کیا اس کے دل میں اپنے لوگوں کا درد ہے اور وہ اسکے عمل سے نظر آتا ہے؟
6) کیا وہ مستقبل قریب اور بعید کی مناسب پیشگوئی اور پیش بندی کر سکتا ہے؟
7) کیا وہ اپنے لئے ایک قابل ٹیم بنا سکتا ہے اور کیا وہ اپنے ہی جیسے مزید لیڈر بنا رہا ہے جو کل اسکی جگہ لے سکیں؟
8) کیا وہ دوسروں میں زمہ داری اور طاقت بانٹ سکتا ہے اور انہیں کانفیڈنس دے سکتا ہے یا سب اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے؟
9) کیا اس میں دوسروں کے مشورے اور تنقید سننے کی صلاحیت اور ان کے میرٹ کے مطابق اپنے فیصلے کر سکتا ہے، اور جہاں خود سمجھ نہ آتی ہو، یا اختلاف ہو، وہاں ماہرین کی رائے کو وزن دے سکتا ہے؟
10) اکثر بڑے اور مشکل فیصلے اکیلے بھی کرنے کے ہوتے ہیں جن کی زمہ داری بھی لینا ہوتی ہے۔ کیا اس میں یہ صلاحیت ہے؟

یاد رکھئے، خوش لباسی، خوش خوراکی، اچھی انگریزی، اچھی تقریر لکھ کر یا بغیر لکھے، حاضر جوابی، اچھا انٹرویو، اچھی پریزنٹیشن لیڈر شپ کی سطحی خصوصیات ہیں جو سطحی درجے پر ہی متاثر کر سکتی ہیں اور اس سے سطحی فوائد ہی حاصل ہو سکتے ہیں, اس سے دور رس نتائج اور کامیابی نہیں ملتی.

میں نے بحیثیت صحافی مہدی شاہ صاحب اور حافظ حفیظ الرحمان صاحب کے دور اقتدار کو بہت قریب سے دیکھا اور الحمدوللہ ان دونوں شخصیات کے ادوار میں انسانی ترقی کے لئیےاٹھائے جانے والے اقدامات پر تسلسل کے ساتھ لکھتا بھی رہا اور اب نوجوان وزیراعلی محمد خالد خورشید کی شخصیت کو جہاں پڑھنے کی کوشش کرریا ہوں وہی پر ان کی اب تک کی کارکردگی کا موازنہ سابق وزرائے اعلی کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کرتا ہوں میرے اب تک کا مشاہدہ مجھے یہ یقین دلاتا ہے کہ سابق وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمن اور موجودہ وزیراعلی محمد خالد خورشید میں ایک چیز مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں ترقی ہسند سوچ کے حامل ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ سابق وزیراعلی کی ترقی ہسند سوچ میں سیاسی تدبر، سیاست کے تناظر میں نظریہ ضرورت کے تحت انسانی ترقی اقدامات کو فروغ دینے والا عنصر زیادہ نمایاں تھا جبکہ موجودہ وزیراعلی انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی انسانوں پر سرمایہ کاری ہی کو اب تک اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں اور خطے کی تعمیر و ترقی میں سیاسی رنگوں کی شمولیت کی نفی کرتے ہے ان کا ماننا ہے کہ انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی ہی کو اولین فرض سمجھنا چاہئیے اور اس عمل میں سیاست سمیت دیگر تمام عوامل کی نفی ہونی چاہئیے .

معاشرے کو ترقی یافتہ بنانے کے لئیے وہاں بسنے والے انسانوں کی معیار زندگی کو بہترین سطح پر لانے کے لئیے حد درجہ ممکنہ اقدامات کو یقینی بنانا لازم ہے وہی پر انسانی معاشرے کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لئیے بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ بروقت ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا اہم ہیں اسی سوچ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی اب تک کی مثالی کارکردگی سے یہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی سوچ کو عملی روپ دینے میں کس حد تک سنجیدہ ہے ان کا کہنا ہے کہ اونچی اونچی عمارتیں بڑی بڑی سڑکیں بنانے سے ہی ہم اسے انسانی زندگی، یا خطے کو ترقی یافتہ نہیں سمجھ سکتا ہاں مگر یہ انسانی ترقی کے لئیے بہترین معاون ہیں انہی کے ساتھ انسانی ترقی جڑی ہوئی ہے، معاشرے کی ترقی جدید خطوط میں تعمیر کے لئیے سب سے اہم اور بنیادی اقدام معاشرے یا خطے میں آباد لوگوں پر سرمایہ کاری ہے میری نظر میں انسانوں پر سرمایہ کاری کے تین ہی بنیادی نکات ہوتے ہیں

1- نسل نو کی تربیت علم و آگہی شعور کو جدید سائنسی بنیادوں پر فراہم کرنا یعنی کے تدریسی نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کیمطابق تیار کرنا
2-انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئیے معاشرے میں بسنے والے آفراد کو بروقت بہترین تمام طبعی سہولتیں فراہم کرنا
3-خطے کے نوجوانوں کو خود انحصاری کی تربیت و مواقع فراہم کرنا انہیں ہنرمند بننے کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں صنعت وحرفت کیطرف قدم بڑھانے میں حکومت مشینری،وسائل کو بہترین معاون کردار بنانا ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاست کے میدان سے عوامی طاقت کے بدولت اقتدار میں فائز وزیراعلی گلگت بلتستان اپنے ان نظریات کی بدولت خود کو عوامی نمائندہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے بھی ہیں کہ نہیں !!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں