بلدیاتی نظام ہی سے درحقیقت جمہوری حکومت کو عوامی حکومت کہا جاسکتا ہے، تحریر علی شیر

وزیر اعلیٰ محمد خالد خورشید اور ان کی کابینہ کی جانب سے بلدیاتی نظام کے قیام کا اعلان کو میں حقیقی جمہوری حکومت کے قیام کے لئیے نہایت خوش آئند سمجھتا ہوں جمہوری حکومتوں کو صحیح معنوں میں عوامی حکومت کا خطاب تبھی دیا جا سکتا ہے جب بلدیاتی نظام کو بروقت رائج کیا جائے ممبران اسمبلی کی زمہ داریاں یہ نہیں کہ وہ گلیاں، نالیاں، ڈسپنسری طرز کے معملات کو اپنی بنیادی ترجیحات میں رکھیں ممبران اسمبلی کا قیام موجودہ نظام میں موجود خامیوں اور عوام کو صحیح معنوں میں خوشحالی کی طرف لے جانے ریاست اور عوام کے مابین مشترک مفادات کو تشکیل دینے کے لئیے جامع حکمت عملی کو مرتب کرنا اور انہیں نفاز کی طرف لے جانا ہے جبکہ عوامی مسائل بلخصوص بنیادی حقوق ان کی دہلیز تک پہنچانا عوام اور انتظامی امور کے اداروں کے مابین بروقت بہترین ہم آہنگی قائم رکھنا یہ بلدیاتی نظام کے زمرے میں اتا ہے درحقیقت بلدیاتی نظام ہی سیاسی کارکنان کو تربیت فراہم کرتا ہے حکومتی امور کو سمجھنے، درپیش مشکلات اور سب سے اہم دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی مسائل کی درجہ بندی کرنا چونکہ سیاسی کارکنان ہی دیہات، محلہ جات کے مسائل کا جہاں صحیح طرح سے ادراک رکھتے ہیں وہی پر عوامی دسترس میں ہمہ وقت رہتے ہیں اور یہی سے ہی سیاسی جماعتوں کو تازہ دم کھیپ ملتی ہے جو سنئیر سیاسی اکابرین کی جگہ لے سکتے ہیں
موجودہ وزیراعلی کسی بھی سیاست دان کے قول و فعل میں تضاد کو سیاست، ریاست اور عوام کے لئیے سخت نقصان دہ سمجھتے ہیں اسی لئیے مجھے یقین ہیکہ وہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائیں گے میں یہاں بحیثیت ایک لکھاری انہیں ایک تجویز بھی پیش کروں گا گو کہ میری اس تجویز سے وہ پہلے ہی بخوبی اگاہ بھی ہے اور اس پر مکمل علم بھی رکھتے ہیں تجویز یہ ہیکہ جہاں بلدیاتی نظام کے قیام کو یقینی بنائیں ساتھ ہی بلدیاتی الیکشن سے سامنے انے والے عوامی نمائندگان کی کارکردگی عوامی نوعیت کے منصوبے اور ضلعی انتظامیہ معہ عوامی امور کے لئیے قائم سرکاری اداروں حتی کہ پولیس کی کارکردگی کو مانیٹر رکھنے کے لئیے اچھی شہرت کے حامل جماعتی کارکنان پر مشتمل ضلعی سطح پر مانیٹرنگ سیل کے قیام کو بھی یقینی بنائیں اس مانیٹرنگ سیل کو کیسے تشکیل دیا جاسکتا ہے اور اس کی افادیت پر وزیر اعلی صاحب جہاں ادراک رکھتے ہیں وہی پر قارعین کے لئیے اس مانیٹرنگ سیل پر ایک مکمل تحریر جلد پیش کروں گا نیز یہ کہ موجودہ حکومت جہاں بلدیاتی نظام کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے وہی پر سابق ادوار میں بلدیاتی فنڈز کے استعمال پر ایک ازادانہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کو بھی یقینی بنائے تاکہ وہ کمیشن سابق ادوار میں جاری کردہ بلدیاتی اسکیمیوں کی مکمل صاف شفاف تحقیقات بھی کرسکے اس حوالے سے درج زیل نکات بہت اہم ہے جن پر مکمل تحقیقات ہونی چاہئیے

1- بلدیات کی مد میں دی جانی والی اسکیمیں انکی کی تفصیلات
2- آیا اسکیمیں میرٹ کی بنیاد پر دی گئی ہیں یا سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر دی گئی تھی۔
3- نیز جاری کردہ اسکیموں پر کس حد تک کام ہوا ہے اور کتنی ایسی اسکیمیں جو صرف سرکاری ریکارڈ میں مکمل اور زمینی حقائق میں انکا وجود ہی نہیں
4- اسکیم کمیٹیاں میرٹ کی بنیاد پر بنائی گئی تھی یا سیاسی بنیاد پر
5- جاری کردہ اسکیمیوں کی مانیٹرنگ یا اڈٹ ہوا بھی تھا کہ نہیں اگر ہوا تھا تو کن نکات پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں