ایک استاد – ایک قلم – ایک کتاب -ایک بچہ دنیا کو بدل سکتا ہے، تحریر: علی شیر

کہا جاتا ہے کہ ایک شہر کے شہری یکجا ہو کر امیر شہر کے پاس اپنی فریادیں لے کر گئے، انہوں نے دہائی دی کہ حضور! لٹ گئے گئے،تباہ ہوگئے، برباد ہو گئے، قاضی فتوے بیچ رہا ہے، انصاف کا خون کر رہا ہے، طبیب عطائی ہے، تاجر ملاوٹ کے ساتھ ساتھ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے، محافظ ہی لوٹ مار اور چوری چکاری میں مصروف عمل ہیں،کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جس میں گراوٹ اور بگاڑ پیدا نہ ہو گیا ہو، امیر شہر پریشان ہوتا گیا، ٹھنڈے پسینوں کو صاف کرتا گیا، جب شہریوں نے ذرا سا توقف کیا تو اس نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ فلاں محلے کی فلاں گلی کی نکڑ پر ایک برگد کے درخت کے نیچے جو استاد علم کا زیور بانٹ رہا تھا ، بچوں کی تربیت کر رہا تھا اس کا کیا ہوا۔۔۔؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ جناب وہ اسی لگن، اسی شدت اور عشق کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ امیر شہر نے یہ سن کر سکھ کا سانس لیا اور شہریوں سے کہا کہ جاؤ سب سکون کے ساتھ جا کر سو جاؤ، جب تک وہ استاد موجود ہے کچھ بھی نہیں بگڑا، بہتری کی امید بھی زندہ ہے اور اس کی جانب سفر بھی جاری ہے.

اقوام کی تعمیر اور معاشروں میں درگزر، رواداری ،برداشت اور تمام نرم اور گداز جذبے پیدا کرنے میں استاد ہی ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے، نپولین نے کہا تھا کہ ’’آپ مجھے بہترین مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دونگا‘‘، ہمارا ماننا یہ ہے کہ آپ بہترین استاد پیدا کریں اور ایک بہترین قوم لے لیں، 80کی دہائی تک تعلیمی اداروں کا نصب العین تعلیم و تربیت ہوتا تھا، یہ تربیت آداب، اخلاقیات اور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ انسانوں کے درمیان ہر قسم کی تفریق ختم کرنے کی ہوتی تھی، ادب،کھیل، فن تقریر، مصوری سب استاد سکھاتے تھے، طالبعلم کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اسے اس میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔

مگر پھر یہ تربیت کا عمل ختم ہو گیا، پہلے جو تدریس کا شعبہ اپناتا تھا اس میں ایک جنون ہوتا تھا کہ اس نے نوع انسانی کے لئے کچھ کرنا ہے، اس نے بچوں کو ایک انسان بننے اور انسانیت کو پروان چڑھانے کے لئے اپنا حصہ ڈالنا ہے، مگر پھر اس شعبے میں ایسے لوگوں کی اکثریت آ گئی جو کہ روزگار کے مواقع ناپید ہونے سے مجبوراً اس شعبے میں آئے،
ریاستی آکابرین نے تعلیم کو بھی نجی شعبے کے حوالے کردیا گیا، کھیل کے میدان اور ہال ناپید ہو گئے مکالموں کا مزاج دم توڈ گیا ، بدلتے حالات بدلتی ریاستی پالیسیوں کی سبب تعلیمی اداروں نے کردار سازی اور علم بانٹنے کی بجائے پیسہ کمانے کو اپنا نصب العین بنا لیا،نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ گھر میں ماں باپ کے پاس بچوں کے لئے وقت نہیں جبکہ سکول میں ٹیچر کو صرف اور صرف اپنا پیریڈ لینے کے علاوہ کسی اور بات کی فکر نہیں۔

سرکاری بنیادی درسگاہوں میں ہم نے اپنے بچوں کو ڈنڈے کے زور سے تقلید پر آمادہ کرنے کے ماحول کو پروان چڑھایا ڈنڈے کے زیر اثر بچوں نے بھی آگے چل کر ڈنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ نسل جنہوں نے آگے چل کر ملکی مستقبل کا معمار بننا تھا جنہوں نے قوم کی راہنمائی راہبر بننا تھا ہماری ریاستی معاشرتی رویوں کی وجہ سے نہ ہی معمار بن سکے اور نہ ہی ان میں قوم کے راہنما رہبر کی خصوصیات نے جنم لیا ماضی کی اسی روش کی بنا پر آج وہ بچے نا اہل سیاست دانوں، پولیس،اور استاذہ وغیرہ کی صورت میں ہمیں ہمارے کردار کا آئینہ دیکھا رہیے ہیں ۔۔ نسل در نسل بگاڑ بڑھتا چلا جا رہا ہے مگر بنیادی اکائی پر کوئی توجہ دینے پر تیار نہیں

اگر معاشرے کو درست کرنا ہے تو ہمیں بنیاد پر توجہ دینی ہو گی ہمیں اپنے اساتذہ کی ٹریننگ نئے سرے سے کرنی ہو گی ہمارے اساتذہ کو راہنماء اور صالح پیروکاروں کے اصلاح کار کا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہونا ہو گا ۔ معاشرے پہ یہ عین لازم ہے کہ آج کے استاد کو اسکا حق دے اور استاد کو بھی اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ لفظ روحانی والدین کو حقیقی روپ دینا اب لازم ہے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اب استاد کو اپنا کردار تبدیل کرنا ہو گا آج کے استاد کو خود کو متالی کردار اور راہنماء کے کردار میں ڈھالنا ہوگا تبھی طلباء خود بخود صالح پیروکاروں کے کردار میں ڈھل جائیں گے۔۔۔۔

کسی بھی ہجوم کو نا قابل شکست قوم کا روپ ایک استاد ہی دے سکتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب استاد کو اپنے کردار کا ادراک ہو، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بسنے والے افراد کا کردار بھی بدلتا رہا ۔ ہمارے معاشرے نے استاد کو کسی زمانے میں روحانی والدین کا درجہ دیا تھا اور جس دورمیں استاد کو یہ درجہ دیا گیا تھا اس دور میں اسے خوش اسلوبی سے نبھایا بھی گیا تھا۔ افسوس کہ گزرتے وقت نے شاگرد کے کردار اور مزاج میں تغیر تو دیکھا مگر استاد کی بنیادی تعریف میں کوئی تحریف نہ کی گئی۔ اس پر ظلم یہ کہ ریاستی و معاشرتی کرداروں نے استاد کو معاشی آسودگی فراہم کرنے کی جانب توجوں نہیں دی معاشی مسائل کا شکار استاد نے اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ پالنے کی خاطر روحانی باپ کے درجے کو چھوڑ کر پیداوار زر کا راستہ اختیار کیا جسکی وجہ سے نسلوں کی کرداری سازی کا عمل رک گیا، معاشرے کے بگڑنے کے اسباب کو جاننے کے باوجود بھی ہمارا رویہ معلم کو اسکا حق دینے کے لئیے آج بھی تیار نہیں ہے ۔ باوجود اس حقیقت کو جانتے ہوئے ہم استاد سے بہت کچھ چاہتے ہے.

ایک قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو خیر کی کنجیوں کا کام کرتے ہیں , شر کے دروازے بند کرتے ہیں , حوصلہ افزائی کرتے ہیں , داد دیتے ہیں , بڑھ کر ہاتھ تھامتے ہیں , اپنی استطاعت میں رہ کر مدد کر دیتے ہیں , دوسروں کے شعور اور احساس کو سمجھتے ہیں , کسی کے درد کو پڑھ لیتے ہیں , مداوا کی سبیل نکالتے ہیں , رکاوٹ ہو تو دور کر دیتے ہیں , تنگی ہو تو آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں , ترشی ہو تو حلاوت گھولنے کی کوشش کرتے ہیں , مسکراہٹ بکھیرتے ہیں , انسانیت کو سمجھتے ہیں , انسانیت کی ترویج کر دیتے ہیں , کسی کی بیچارگی کو دیکھ کر ملول ہوتے ہیں اور اپنے تئیں چارہ گری کی سبیل کرتے ہیں , ابتداء کرتے ہیں , ایجاد کرتے ہیں , ساتھ دیتے ہیں , مل کر کھاتے ہیں , دکھ بانٹتے ہیں , درد سمجھتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں