گلگت بلتستان الیکشن 2020 اور سیاسی جماعتوں کا منشور، تحریر: علی شیر

گلگت بلتستان الیکشن 2020 سیاسی جماعتوں کی گہما گہمی عروج پر ہے الیکشن 2020 سیاسی گہما گہمیاں پورے پاکستان میں مرکز نگاہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ اب کی بار الیکشن کمپئنز میں مقامی سیاست دانوں کی جگہ وفاقی قائدین کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ، گلگت بلتستان الیکشن 2020 موجودہ تناظر میں تین بڑی سیاسی جماعتیں اپنے بیانیہ کی بنیاد پر الیکشن کمئین میں مصروف عمل ہے .

1- پاکستان تحریک انصاف

پاکستان تحریک انصاف کے لئیے یہ الیکشن دیگر جماعتوں کے مقابلے میں قدرے آسان ہے اس کی دو ہی بنیادی وجوہات ہیں

1- وفاق میں پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار ہے چونکہ یہ تاریخ رہی ہیکہ وفاق میں جو بھی جماعت برسر اقتدار ہے وہی جماعت صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب رہتی ہے ایسا کیوں یہ سبھی جانتے ہیں
2- گلگت بلتستان انتظامی امور کے زعماء وفاق کے زیر ہدایات ہوتے ہیں،گلگت بلتستان کے منافع بخش وسائل کے اختیارات وفاق کے پاس ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان معاشی طور پر مکمل وفاق کے زیر اثر ہے ملازمین تنخواہیں سمیت وفاق تمام تر عوامی منصوبوں کی مد پر انے والے اخراجات بجٹ بھی وفاق جاری کرتا ہے. پاکستان تحریک انصاف کو جہاں وفاق میں برسراقتدار ہونے کا فائدہ پہنچ رہا ہے وہی پر سابقہ نون لیگ حکومت کابینہ میں شامل چند بڑے نام اب پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں .

یہی وہ وجوہات ہیں جنکی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف کے لئیے اقتدار میں انا سہل ہے تو وہی پر پاکستان تحریک انصاف جو کہ شروع دن ہی سے دھڑے بندیوں کا شکار رہی مرکزی قائدین کی جانب سے ٹکٹس تقسیم عمل سے پہلے اندرونی اختلافات کو دور کرنے ٹکٹس تقسیم عمل میں امیدواران کے مابین افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے بجائے اپنے ہمخیال دھڑوں کو تعاون فراہم کیا گیا جس سے دھڑے بندی کے شکار مقامی امیدواراں کے درمیان مفاہمت کے بجائے عداوتوں کو فروغ ملا اور یوں پاکستان تحریک انصاف انہی اندرونی عداوتوں کے ساتھ الیکشن 2020 میں پاکستان تحریک انصاف بمقابلہ پاکستان تحریک انصاف نمایاں طور پر نظر آ رہا ہے جماعتی ٹکٹ ہولڈرز ہی کے خلاف جماعت ہی کے سیاسی کردار ازاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں اور جن حلقوں میں جماعتی کردار ازاد حیثیت میں الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں وہاں پر اپنی ہی جماعت کے منتخب امیدوار کو مضبوط کرنے کے بجائے مخالف امیدوار کو معاونت فراہم کر رہے ہیں
پی ٹی ائی جہاں شدید گروپ بندی کا شکار ہے وہی پر وفاقی قائدین کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز کے مقابلے میں امین گنڈا پور کو گلگت بلتستان بھیجا گیا ان تینوں مرکزی قائدین کا اب تک کی الیکشن کمپئینز کردار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو گنڈا پور صاحب سنجیدہ حلقوں میں مئوثر بیانیہ پیش کرنے میں کمزور دیکھائی دے رہے ہیں.

پاکستاں تحریک انصاف بیانیہ
✓ ہم آئینی عبوری صوبہ بنا رہے ہیں اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دے رہے ہیں
✓ ہم چونکہ وفاق میں برسر اقتدار ہے اسی لئیے ہمارے نمائندوں کو کامیاب کرائے ہم ہی اپ کے مسائل حل کرسکتے ہیں

پاکستان مسلم لیگ نون
پی ایم ایل نون ایک ایسی جماعت ہے جہاں سیاسی کارکنان کو اہم سمجھا نہیں جاتا اس جماعت کو عمومی طور پر کیپٹیلازم کی نمائندہ جماعت سمجھا جاتا ہی اور ایسا ہی کچھ حافظ حفیظ الرحمان کے سابقہ دور اقتدار میں بھی واضح دیکھائی دیا گیا گو کہ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کا حافظ حفیظ الرحمان کی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ نون لیگ نے ان کے مقابلے میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا منصوبوں کی اہمیت اور نوعیت پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نون لیگ کوئی خاص کارکردگی پیش نہیں کی، سیاسی کارکنان ہی کسی بھی سیاسی جماعت کا ہراول دستہ ہوتے ہیں جب بھی سیاسی جماعتیں بحرانوں جا شکار رہتی ہیں تو یہی سیاسی کارکنان ہی ان جماعتوں کو بحرانوں سے نکالنے میں صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں مگر

✓ حافظ حفیظ الرحمان کے دور اقتدار میں ان کی جماعت کے سیاسی کارکنان کو دیوار سے لگایا گیا وہی پر ان کی سیاسی سوچ، عوامی مسائل، وزراء کی کارکردگی پر پائے جانے والے تحفظات کو سننے اور انہیں متحرک رکھنے کے لئیے خاطر خواہ سنجیدہ اقدامات کو فروغ نہیں دیا گیا بلخصوص سوشل میڈیا ونگ کو حکومتی مجموعی طور پر اچھی کارکردگی کو عوام کے سامنے نمایاں رکھنے کے لئیے بھی فعال نہیں کیا گیا اور اج نون لیگ قائدین اپنے سیاسی کارکنان کا سامنا نہیں کر پا رہے ییں باوجود اس کے نون لیگ کارکنان ہی بڑھ چڑھ کر جماعتی کمپئین کو چلا رہے ہیں

✓ چونکہ نون لیگ اسوقت سیاسی افق میں شدید مشکلات کی شکار ہے ایسے میں صوبائی قیادت جن کی مجموعی ظور پر کارکردگی بھی اچھی رہی نے الیکشن 2020 میں مئوثر حکمت عملی اپنانے سے قاصر رہی وہی پر اپنی سابقہ کارکردگی کو الیکشن کمپئین کا حصہ نہ بنا سکی اب تک کوئی مئوثر میڈیا کمپئین نہ ہی صوبائی قیادت نے جاری کی اور نہ ہی مرکزی قائدین نے.

✓ مرکزی قائدین نے بھی الیکشن 2020 کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں غیر سنجیدہ مزاج کا مظاہرہ کیا گیا بہت تاخیر سے مریم نواز الیکشن مہم کا حصہ بنی ، مریم نواز کے پاس گلگت بلتستان کو درپیش مسائل، صوبہ بنانے کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی سفارشات لیکرعالمی سطح پر گلگت بلتستان کی اہمیت کے حوالے سے معلومات کا فقدان واضح طور پر دیکھائی دے رہا ہے وہی پر مقامی قائدین کے بیانیے کو فروغ دینے کے بجائے ووٹ کو عزت دوں کا بیانیہ ہی کو مکمل طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے

✓ اپنے دور اقتدار میں صف دوئم میں موجود سیاسی کارکنان کو مضبوط نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اج جماعت کے پاس مضبوط امیدواران کی تعداد بھی کم ہے۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی

مجموعی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی قائدین گزشتہ پانچ سالوں میں کوئی مئوثر عوامی بیانیہ کو فروغ نہیں دے سکے حافظ حفیظ الرحمان حکومت کے خلاف بھی مضبوط اپوزیشن کا کردار نہیں نبھا سکی متعدد بار نون لیگ کو کمزور کرنے کے لئیے ایشوز کو اٹھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ایسے میں جماعت کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کا اپنایا گیا بیانیہ ” حق حاکمیت حق ملکیت ” سنجیدہ حلقوں میں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہا اسی بیانیہ کی وجہ سے امجد حسین ایڈووکیٹ سیاسی سماجی سطح پر جہاں مشکلات کا شکار رہے وہی پر ان کا سیاسی کیرئر بھی داؤ پر لگ گیا تھا امکانات یہاں تک نظر آ رہے تھے کہ اسی بیانئے سے وہ سیاسی تنہائی کی نظر ہوسکتے ہیں مگر اس شخص نے تمام تر مشکلات کا سامنے کرتے ہوئے اپنے بیانئے کو عوامی سطح پر پزیرائی دلوانے میں کامیاب رہا اور آج پاکستاں پیپلز پارٹی کے مرکزی قائدیں بھی اسی بیانیہ پر الیکشن کمپئین کر رہے ہیں

✓ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جہاں بروقت سیاسی کمپئینز کا حصہ بنے وہی پر مضبوط مئوثر حکمت عملی کے تحت خطے کے ان مقامات تک پی۔پی پی کا بیانیہ لیکر پہنچے جہاں تک وفاقی سطح کے قائدین اج تک نہیں جاسکے

✓ بلاول تمام تر جلسے جلوس میں اسی بیانئے کو پیش کر رہے ہیں جسے گزشتہ پانچ سالوں سے صوبائی قیادت فروغ دے رہی تھی ” حق حاکمیت حق ملکیت ” اور ان کا یہی انداز اس الیکشن میں پی پی پی کو منفرد مقام پر لے جا رہاہے، عوامی حلقوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پہلی بار کسی بھی جماعت کے مرکزی قائد مقامی سیاستدانوں کے بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں اور مقامی سیاست دانوں کی سوچ کو تقویت بخش رہے ہیں

✓ بلاول نے جہاں مقامی صحافیوں کو اپنے تک رسائی دی وہیں پر مکمل ایشیئن انداز کے ساتھ گلگت بلتستان کے روایتی لب و لہجہ کو استعمال میں لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں
اور یہی وہ پی پی پی کی حکمت عملی ہیکہ مرکزی قائدین میں سے عوامی سطح پر بلاول بھٹو زرداری ہی کو زیادہ پزیرائی مل رہی ہے۔

حکومت سازی

اب تک کی صورتحال میں تمام تر مسائل کے شکار رہنے کے باوجود پی ٹی آئی کی پوزیشن حکومت سازی کی ہے مگر یہ بھی تاریخ میں پہلی بار دیکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی بہترین حکمت عملی کے ساتھ مئوثر مضبوط بیانیہ کو فروغ دیتے ہوئے باشندگان گلگت بلتستان کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوتی جارہی ہے ایسے میں اگر پی پی پی اپنے پی ایم ایل این اور آزاد امیدواران کو ملا لیتی ہے تو تاریخ میں پہلی بار یہ بھی دیکھنے میں آئے گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں برسر اقتدار جماعت، جو کہ الیکشن جیتنے کے لئیے تمام تر وسائل کو بھی بروئے کار لارہی ہے، کو حکومت سازی سے محروم کر دیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں