اقتدار کے کوٹھے پرمعاشرتی اقدار اور اسلامی روایات کا جنازہ۔۔تحریر: شیر علی انجم

کہتے ہیں جمہوریت دویونانی الفاظ کی جمع Demo یعنی ”عوام“ اور Kratos یعنی ”حکومت“ سے مل کربنا ہے۔ عام لفظوں میں جمہوریت لوگوں کی حکمرانی کو کہتے ہیں جہاں عوامی فیصلے عوام کی مرضی سے عوام کے منتخب نمائندے ایوانوں میں بیٹھ کرتے ہیں۔ ایک یونانی فکر کے مطابق جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں۔سابق امریکی صدرابراہم لنکن نے جمہوریت کی تعریف کچھ اسطرح کی ہے. (عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعے،عوام پر)۔ لیکن بدقسمتی آج گلگت بلتستان جیسے سیاسی،فکری،سماجی ،معاشی اور معاشرتی طور پر پسماندہ ترین خطے میں جمہوریت دراصل مفادات کی حصول کیلئے ضمیر فروشی کا دوسرا نام ہے۔ جہاں معاشرتی جمہوری اقدار کا جنازہ نکال کر مخصوص لوگ گزشتہ دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہیں اور عوام آج بھی اس قدر جمہوریت کی اصل تعریف اور تشریح سے بے خبر ہیں کہ جنہیںانہی افراد کا بار بار پارٹیاں بدلنا ہے ہی جمہوریت اور جمہوری تقاضا لگتا ہے۔ یعنی ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی بسر کرتے ہیں جہاں سچ کو لوگ گالی اور معاشرتی اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں جبکہ جھوٹ ،فریب ،دھوکہ دہی کرپشن معاشرے کی اہم جزو بن چکی ہے مگر دوسری طرف معاشرہ عین اسلامی ہونے کے بلند بانگ دعوے بھی منبروں سے بانگ دہل کی جاتی ہے۔ جو کہ میرے خیال سے لاشعور قوم ہونے کی عملی دلیل ہے۔
اسی طرح سیاست کی تعریف کریں توسیاست سے مراد ایک ایسا عمل ہے جس سےمعاشرے کی معیشت ،عدل و انصاف اور آزادی کے اصولوں کو فراہم کرنا ہے ۔ سیاست ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے عوامی رائے عامہ کی مرضی کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ لیکن منفرد خطے میں سیاست کی تعریف بھی منفرد ہے یہاں سیاست بھی دراصل
اقتدار کے حصول کے بعدحقوق کی حصول،مذہبی اور معاشرتی اقدار اورجمہوری روایات کے تحفظ کے بجائے ذاتی فوائد کیلئے کرسی تک پہنچنا ہوتا ہے۔ سیاست کابنیادی مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے تاکہ اُس بنیاد پر عوام کو انکے حقوق ملتے رہیں۔ لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کی چہترسالہ تاریخ میں صدارتی حکم نامے پر کھڑی سیاست کا محور ہمیشہ مفادات عامہ کے خلاف رہا ہے اور سیاست ایک طرح سے ٹھیکداری کا دوسرا نا م ہے یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ذیادہ تر ممبران بلواسطہ یا بلاوسطہ سرکاری ٹھیکدار ہیں اُسی بنیاد پر عوام سے ہر پانچ سال بعد اُنکی رائے خرید کر اقتدار حاصل کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ معاشرتی آج تعمیر اور ترقی کے حوالے سے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے لیکن لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اس وقت گلگت بلتستان کی آبادی کے برابر لوگ خطے میں بنیادی سہولیات اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوچُکے ہیں جنکی تعداد ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے یہ لوگ آج بھی گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے ووٹ کاسٹ کرنے کے حقوق سے محروم ہیں۔
آج کا موضع گفتگو گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر سید جعفر شاہ مرحوم ہیں۔ جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کرتے تھے ۔اُنکی سوچ اور سیاست کا محور خطے کی چہترسالہ سیاسی محرومیاں ہوا کرتے تھے ۔وہ خطے کی مسخ شدہ شناخت کی بحالی کی بات کرتے تھے۔ اُن کے طرز سیاست سے کوئی اختلاف کرسکتا ہے لیکن اُن کے خیالات اور قومی سوچ کے بارے میں کسی کو کوئی گمان نہیں وہ خطے کو محرومیوں سے نکالنا چاہتے تھے ۔اس حوالے سے اُن کےتقاریر سوشل میڈیا پر بھری پڑی ہیں جس میں ہم نے دیکھا کہ اُنہوں نے ہمیشہ اپنے آپکو ایک وفاقی پارٹی کا نمائندہ سے پہلے گلگت بلتستان کے ترجمان کے طور پیش کیا ۔ ذاتی طور پر وہ مخالفت برائے مخالفت کے بھی خلاف تھے وہ سیاسی مخالفین سے بھی محبت سے ملتے تھے ۔جسکا ثبوت اُن کے سیاسی حریف ڈاکٹر اقبال کے ویڈیو کلپس میں اُن کیلئے تعریفی کلمات کی شکل میں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ اُن کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ بیوروکریسی کی سیاست میں مداخلت کے سخت خلاف تھے ۔ بدقسمتی سے گزشتہ ایک ماہ سے سُننے میں یہی آرہا تھا کہ وہ بیمار ہیں لیکن معلوم ہوا کہ وہ بھی کرونا کے وباء کا شکار ہوگیا تھا اور اس وباء کی وجہ سے جانبرد نہ ہوسکے اور گزشتہ ہفتے خالق حقیقی سے جاملے۔ اللہ اُنکی مغرفت فرمائیں۔
اُن کی رحلت کے روز ہی الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے ایک نوٹفیکشن کے زریعے اُن کے حلقے میں الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کردیا اور گلگت بلتستان کے تمام سیاسی پارٹیوں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا مگر بدقسمتی سے اسلام آباد میں اُن کی پارٹی نے اُن کی وفات کے دن ہی اُن کو بھلا دیا اور اُنکی رحلت کے بعد خالی ہونے والے سیٹ کی حصول کیلئے جوڑ توڑ شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے نائب صدر اور سابق وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال کو مالا پہنا کر پارٹی میں شامل کرکے تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی۔ ڈاکٹر اقبال اور مرحوم سید جعفر شاہ ایک ہی حلقے کے ہیں اور خود ڈاکٹر اقبال کے سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق قریبی رفاقت بھی رکھتے تھے۔ لیکن اقتدار بہت ظالم چیز کا نام ہے اور اقتدار کیلئے لوگ معاشرتی اقدار اسلامی روایات کو بھی پس پشٹ ڈالتے ہیں یہی کچھ ڈاکٹر اقبال نے کیا اور ابھی سید جعفر شاہ مرحوم کا سوئم نہیں ہوا تھا اُنہوں نے تحریک انصاف میں شامل ہوکر ہار پہن خوشیاں مناتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کرکے گلگت بلتستان کے روایات ،معاشرتی اقدار اور اسلامی اصولوں کا جنازہ نکال دیا ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پر ڈاکٹر اقبال شدید تنقید کے ذد میں نظر آتا ہے عوامی حلقوں کی جانب سے اُن کو آڑلے ہاتھوں لے رہا ہے۔ لیکن اقتدار کے ہوس میں مست ڈاکٹر اقبال کو اس بات کی یقینا کوئی فکر نہیں ہوگی کیونکہ فدا محمد ناشاد کی طرف اُن کے نزدیک بھی اسلام آباد کے حاکم کا ٹکٹ ہی دراصل جیت کی علامت ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام کو سوچنا چاہئے کہ جو پارٹی اپنے صدر کی رحلت پر تین دن سوگ نہیں مناسکتے وہ گلگت بلتستان کے عوام کو کیا دے گا۔اس وقت گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف دراصل رائل فاونڈیشن کی ذیلی شاخ ہونے کے ساتھ لوٹوں کی اماجگاہ بن چُکی ہے ۔ اور اس پارٹی نے پارٹی کے نظریاتی سنئیر کارکنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کیلئے تمام سیاسی لوٹوں کو اپنے پرچم تلے جمع کیا ہے ۔لہذا ڈاکٹر اقبال اور فدا ناشاد جیسے لوگ ابن الوقت ہیں اُن کا کوئی نظریہ نہیں اور نہ ہی اُن کو معاشرتی اقدار اور روایات سے کوئی سروکار ہیں۔حالانکہ فدا ناشاد اور ڈاکٹر اقبال ماضی میں تحریک انصاف کو کوئی پارٹی ہی نہیں سمجھتے تھے صرف یہ نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران خان پر بھی یہ لوگ سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں جسکا ثبوٹ ویڈوز اور اخباری خبروں کی شکل میں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ لہذا ان فراد کو گلگت بلتستان میں سیاست دان سمجھنادراصل لفظ سیاست کی توہین ہیں۔ یہ تو اقتدار کے کوٹھے پر جانے کیلئے معاشرتی اقدار اور اسلامی روایات کا جنازہ نکالنے والے بھوکے لوگ ہیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں