دیامر ڈیم میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جانا چاہئے، قائمہ کمیٹی کی سفارش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کے کوٹہ کا مسئلہ حل ہونے تک دیامر بھاشا ڈیم کے لئے مشتہر آسامیوں پر بھرتی روکنے کی سفارش کر دی ، کمیٹی ارکان نے کہا کہ آسامیوں پر مقامی لوگوں کو رکھا جائے،کمیٹی نے چشمہ جہلم لنک کینال کے مسائل کوحل کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ،جبکہ راول ڈیم کو سیاحت کے لئے نہ کھولے جانے کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، ذیلی کمیٹی کی سربراہی علی نواز اعوان کریں گے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس رکن قومی اسمبلی خالد حسین مگسی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے دوران چشمہ جہلم لنک کینال سے متعلق معاملہ زیر غور آیا، کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چشمہ جہلم لنک کینال کا آپریشنل کنٹرول واپڈا کے پاس ہے ، چشمہ جہلم لنک کینال میں تعمیرومرمت کے مسائل ہیں، رکن کمیٹی علی نواز اعوان نے کہا کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے لئے واپڈا کی جانب سے دیئے ملازمتوں کے اشتہار کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، چیئرمین کمیٹی خالد حسین مگسی نے کہا کہ دیامر بھاشا کے لوکل لوگوں کی ملازمت کا مسئلہ ہے ،کمیٹی نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کا اسٹیٹس کمیٹی کو بتائیں، کمیٹی نے مقامی لوگوں کے کوٹہ کا مسئلہ حل ہونے تک دیامر بھاشا ڈیم کے لئے مشتہر شدہ آسامیوں پر بھرتی روکنے کی سفارش کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں