خلائی تحقیقی ادارے نا سا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کا شمالی خطہ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔

جہاں پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث متاثر ہو رہی ہیں ، وہی پر پاکستان کا شمالی خطہ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میںہے اور ائے روز ہنگامی سی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، ایک عشرے سے اس خطے میں سیلاب برفانی تودے اور مٹی کے تودوں کی وجہ سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔جس سے قیمتی جانوں کا ضیائع،مالی نقصانات اور زمینوں کا سیلابی پانی میںبہنا معمول بنتا جا رہا ہے۔حکومت ، ادارے اور عوام کی جانب سے اسے قدرتی افت کا نام دے کر اپنی سی کوشیش کی جاتی ہیں جبکی اس کے اصل زمہ دار حکومت وقت اور یہاں بسنے والی عوام ہے۔ ماحولیاتی الودگی کا اضافہ چند سالوں میں اس خطے میں حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی واحد وجہ گاڈیوں کا بے جا استعمال،برقی الات کا استعمال جس سے ہماری اوزون لئیر ozone layer بری طرح متاثر ہو چکی ہے جس سے روز بروز اس خطے میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا اور ہمیشہ ہنگامی صورتحال رہتی ہے۔ گلگت بلتستان ، پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں گلئشیرز کثرت سے پائے جاتے ہیں جن میں سیاچن گلشئیر ، بیافو گلشیئر، بلترو، بتورا، ہسپر اور پنامہ گلشئیر قابل زکر ہے، مگر ایک عشرے کے دوران ان گلشئیرز کے پگلائو میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ائے دن اس خطے میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھنے کو ملتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں